افغان مہاجرین کو پاکستان چھوڑنے کے حکومتی الٹی میٹم میں صرف چند روز باقی رہ گئے ہیں۔ یکم ستمبر تک واپسی کی مہلت ختم ہونے کے پیش نظر ان مہاجرین نے پشاور اور دیگر علاقوں میں خریدی گئی جائیدادیں بیچنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ مقامی افراد بالخصوص سرکاری اہلکار ان جائیدادوں کی خریداری میں دلچسپی لے رہے ہیں اور اطلاعات ہیں کہ بعض اہلکار یہ جائیدادیں اپنے قریبی رشتہ داروں یا بھروسہ مند افراد کے نام منتقل کر رہے ہیں۔
انسداد بدعنوانی سمیت متعلقہ اداروں نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ان تحقیقات کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ جائیدادیں خریدنے والے افراد کی آمدن اور موجودہ دولت میں کتنا فرق ہے، اور اگر وہ اپنے ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثے استعمال کر رہے ہیں تو ان سے باز پرس کی جائے۔
حکومت کئی ماہ سے غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو بار بار خبردار کر رہی تھی کہ وہ اپنے وطن واپس لوٹ جائیں، لیکن اکثر مہاجرین کو امید تھی کہ ماضی کی طرح اقوام متحدہ کے ادارے کی درخواست پر انہیں مزید مہلت مل جائے گی۔ تاہم، حالیہ سیکیورٹی خدشات اور دہشت گرد سرگرمیوں میں مبینہ سہولت کاری کے باعث حکومت نے اس بار کسی بھی توسیع سے انکار کرتے ہوئے مہاجرین کو واپس بھیجنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔
حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وہ مہاجرین جنہوں نے پاکستان میں جائیدادیں خرید رکھی ہیں اب انہیں فروخت کرنے لگے ہیں۔ یہ صورتحال کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ پہلا سوال یہ ہے کہ کیا کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان جائیدادوں کو کم قیمت پر خریدنا اخلاقی طور پر درست ہے؟ دوسرا اور اہم سوال یہ ہے کہ افغان مہاجرین کو کس قانون کے تحت پاکستان میں اربوں کی جائیدادیں خریدنے کی اجازت دی گئی، جب کہ ملکی قوانین میں غیر ملکیوں کے لئے جائیداد خریدنے کا کوئی تصور موجود ہی نہیں۔
یہ واضح ہے کہ اس پورے عمل میں متعلقہ اداروں کے اندر موجود کالی بھیڑوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہزاروں افغان مہاجرین کو پاکستانی شناختی کارڈ جاری کئے گئے، جس کے نتیجے میں انہوں نے پاسپورٹ بھی حاصل کئے اور نہ صرف بیرون ملک گئے بلکہ ملکی بدنامی کا سبب بھی بنے۔ ان جعلی شناختی کارڈز کے ذریعے افغان مہاجرین عام انتخابات میں حصہ لیتے رہے، سرکاری ملازمتیں حاصل کرتے رہے اور جائیدادوں کے مالک بھی بنتے رہے۔
اصل ذمہ داری نادرا اور پاسپورٹ جیسے اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ ماضی میں اگرچہ کچھ کارروائیاں کی گئیں، لیکن جو خرابیاں پیدا ہو چکی تھیں ان کے اثرات آج بھی سامنے ہیں۔ اب یہ ناگزیر ہے کہ جائیدادیں خریدنے والوں کے اثاثوں کی مکمل چھان بین کی جائے اور ان اہلکاروں کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جائیں جو اب بھی جعلی شناخت کی خرید و فروخت میں ملوث ہیں تاکہ مستقبل کو کم از کم محفوظ بنایا جا سکے۔





